روزانہ کی بنیاد پر ای میل کا حصول

Showing posts with label رموز بیخودی. Show all posts
Showing posts with label رموز بیخودی. Show all posts

Tuesday, November 19, 2013

مَگسل اَز ختمِ رُسل ایّامِ خویش


مَگسل اَز ختمِ رُسل ایّامِ خویش
تکیہ کَم کُن بَر فن و بر گامِ خویش

{اے مسلمان} اپنی زندگی کا رشتہ/ناطہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مت توڑ
اپنے علم وفن اور روش{رفتار} پر بھروسہ مت کر

فطرتِ مُسلم سراپا شفقت اَست
دَر جہاں دَست و زُبانِش رحمت اَست

مسلمان کی فطرت سر سے پاوں تک {سراسر} شفقت ہے
اس دنیا میں اس کا ہاتھ اور اسکی زبان رحمت کا پیغام ہے

آنکہ مہتاب اَز سرِ اُنگُشتِش دونیم
رحمتِ اُو عام و اخلاقِش عظیم

وہ پاک ذات جسکی انگلی کے اشارے سے چاند دوٹکڑے ہوگیا
کیا یہ معلوم نہیں وہ سب کے لیئے رحمت تھے{ اور انکا لقب ہی رحمت اللعالمین تھا}
ان کے اخلاق سب سے اعلی تھے

اَز مقامِ اُو اگر دُور ایستی
اَز میانِ مَعشرِ ما نیستی

اگر تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام سے دور رہا
تو جان لے کہ تُو پھر ہماری جماعت میں سے نہ ہوگا

"رموزِ بیخودی" علامہ محمد اقبال رح

قلبِ مؤمن رَا کِتابِش قوّت اَست


قلبِ مؤمن رَا کِتابِش قوّت اَست
حِکمتِش حَبلُ الوریدِ مِلّت اَست

{رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم } جو کتاب لائے{ یعنی قرآنِ مجید} وہ مومن کے دل کے لیئے
قوت و استحکام کا سامان ہے
جو حکیمانہ ارشادات {حدیث نبوی } حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک پر جاری ہوئے
انہیں ملت کی زندگی میں شہ رگ کی حیثیت حاصل ہے

دامَنِش اَز دَست دادَن ، مُردَن اَست
چوں گُل اَز بادِ خزاں اَفسُردن اَست

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن کو ہاتھ سے جاتے دینا موت ہے
جس طرح فصلِ خزاں کی ہوا پھول کے لیئے افسردگی کا باعث ہے

زندگی قوم اَز دمَ اُو یافت اَست
ایں سَحَر اَز آفتابِش تافت اَست

قوم نے صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دم سے زندگی پائی
یہ صبح صرف اسی آفتاب کی روشنی سے منور ہوئی{ جلوہ ریز ہوئی}

"رموزِ بیخودی" علامہ محمد اقبال رح

علمِ حق غیر اَز شریعت ہَیچ نیست


علمِ حق غیر اَز شریعت ہَیچ نیست
اصلِ سنّت جُز مُحبت ہَیچ نیست

علمِ حق شریعت کے سوا کچھ نہیں،شریعت وہی ہے جو اللہ تعالٰی کے حکم سے رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانوں تک پہنچائی

اور تجھے معلوم ہے کہ سنت کی اصلیت کیا ہے؟ محض اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم
کے حکم و عمل سے محبت{ جوشخص اللہ تعالٰی کی مقرر کی ہوئی شریعت اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے لیئے جذب و کشش اپنے اندر نہیں رکھتا، اس کی زبان سے محبت کا
دعویٰ جھوٹا سمجھا جائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کا درجہ اتنا بلند ہے
کہ اللہ تعالٰی نے قرآن مجید میں فرمایا" رسول کی پیروی خدا کی محبت کا وسیلہ ہے"

فرد رَا شرع اَست مرقاتِ یقیں
پُختہ تَر از وے مقاماتِ یقیں

فرد کے لیئے شریعت ایک ایسا زینہ{ سیڑھی} ہے جو اسے یقین کی بلندی پر پہنچا دے

شریعت ہی کے پیروی سے یقین کے مقامات پختہ اور مستحکم ہوتے ہیں

"رموزِ بیخودی" علامہ محمد اقبال رح

 
ترجمہ کردہ : محمد بلال اعظم