روزانہ کی بنیاد پر ای میل کا حصول

Showing posts with label پس چہ باید کرد. Show all posts
Showing posts with label پس چہ باید کرد. Show all posts

Tuesday, November 19, 2013

حکمتِ اشیاء فرنگی زاد نیست


حکمتِ اشیاء فرنگی زاد نیست
اصلِ اُو جُز لذّتِ ایجاد نیست

اشیاء کی ماہیت جاننے کا آغاز فرنگیوں{یورپین} سے نہیں ہوا
اس کی بنیاد صرف نئی دریافت کی لذت ہے

نیک اگر بینی مسلماں زادہ اَست
ایں گُہر اَز دستِ ما افتادہ اَست

اگر تو غور سے دیکھے تو یہ{ علم و ہنر،دانش و حکمت} مسلمانوں کی پیدا کردہ ہے
یہ موتی ہمارے ہی ہاتھ سے گرا ہے

چوں عرب اندر اَرُوپا پَر گُشاد
علم و حکمت را بِنا دیگر نہاد

جب عربوں نے یورپ میں بھی اپنے جھنڈے گاڑ دیئے
تو انہوں نے وہاں نئے انداز سے علم و حکمت کی بنیاد رکھی

دانہ آں صحرا نشیناں کاشتَند
حاصلِش افرنگیاں برداشتَند

یہ بیج{ علم و حکمت}تو عرب صحرا نشینوں نے بویا تھا
لیکن اسکا حاصل اہل یورپ نے اٹھالیا { اکٹھا کیا}

علامہ رح " از پس چہ باید کرد"

ہَر زماں اَندر تلاشِ ساز و بَرگ


ہَر زماں اَندر تلاشِ ساز و بَرگ
کارِ اُو فکرِ مَعاش و تُرسِ مَرگ

{ایسی قوم} جو ہر لمحہ بس ساز وسامان{روپے پیسے} ہی کے چکر میں رہتی ہے
اس کا کام روزی کی فکر اور موت سے ڈرنا ہے

مُنعمانِ اُو بَخیل و عیش دوست
غافل اَز مغزاند و اندر بَندِ پوست

اس قسم کے دولت مند کنجوس لیکن عیاش ہوتے ہیں
وہ {رسوم} کے چھلکے میں گرفتار اور {حقیقت کے} مغز سے غافل ہوتے ہیں

قوتِ فرمانروا معبودِ اُو
دَر زیانِ دین و ایمان سُودِ اُو

حکمران کی قوت ان کی معبود ہے
وہ دین ایمان کے نقصان میں اپنا فائدہ دیکھتے ہیں

اَز حدِ امروز خود بیروں نَجِست
روزگارِش نقشِ یَک فردا نَبَست

وہ اپنے امروز{آج} کے حد سے باہر نہیں نکلتی
اس کی زندگی میں ایک کل کا نقش بھی ثبت نہیں ہوتا

اَز نیاگاں دفترے اَندر بغل
اَلامان اَز گفتہ ہائے بے عمل

وہ اپنے اسلاف { کے ناموں} کا دفتر بغل میں دبائے پھرتی ہیں
خدا کی پناہ، اس کی بے عمل باتوں سے{ اس کے پاس باتیں ہی باتیں ہیں عمل کوئی نہیں}

دینِ اُو عہد وفا بَستَن بہ غیر
یعنی از خِشتِ حَرَم تعمیرِ دَیر

اسکا دین غیروں سے پیمانِ وفا باندھنا ہے
وہ گویا حرم کو{ گرا کر اس} کی اینٹ سے بتکدے کی تعمیر کرتا ہے

آہ قومے دِل ز حَق پَرداختہ
مُرد و مَرگِ خویش را نَشُناختہ

افسوس ہے ایسی قوم پر جس نے حق سے دل ہٹالیا
جو مرچکی ہے مگر اپنی اس موت کو پہچانتی نہیں

"پس چہ باید کرد" علامہ محمد اقبال رح

اے مسلماں اندریں دیرِ کُہن


اے مسلماں اندریں دیرِ کُہن
تا کُجا باشی بہ بَندِ اھرمَن

اے مسلمان تو اس پرانے بت خانے {دنیا} میں
کب تک اھرمن {شیطان} کی قید میں رہے گا

جُہد با توفیق و لذت دَر طلب
کَس نیاید بے نیازِ نَیم شَب

با توفیق جہد{اللہ تعالٰی کی مہربانی اور ہدایت} اور لذتِ طلب
دونوں گریہ نیم شبی{ آدھی رات کے رونے} کے بغیر حاصل نہیں ہوتے

"پس چہ باید کرد" علامہ محمد اقبال رح

بندۂِ حق وارثِ پیغمبراں


بندۂِ حق وارثِ پیغمبراں
اُو نَگَنجَد دَر جہانِ دیگراں

بندہ حق{خدا کا خاص بندہ} پیغمبروں کا وارث ہے
وہ دوسروں کی دنیا میں نہیں سماتا { یعنی اپنا جہاں خود پیدا کرتا ہے}

تا جھانے دیگرے پیدا کُنَد
ایں جہانِ کُہنہ رَا بَرہَم زَنَد

تاکہ وہ ایک نئی دنیا پیدا کرے
{وہ} اس قدیم دنیا کو درہم برہم کرکے رکھ دیتا ہے

زِندہ مَرد اَز غیرِ حق دارد فراغ
از خودی اندر وجودِ اُو چراغ

خدا کا خاص بندہ اللہ کے سوا باقی تمام کائنات سے خود کو دور رکھتا ہے
اس کے وجود کے اندر خودی کا چراغ روشن ہوتا ہے

"پس چہ باید کرد" علامہ محمد اقبال رح

 
ترجمہ کردہ : محمد بلال اعظم