روزانہ کی بنیاد پر ای میل کا حصول

Showing posts with label پیام مشرق. Show all posts
Showing posts with label پیام مشرق. Show all posts

Tuesday, November 19, 2013

ز عشق دَرسِ عمل گِیر و ہَر چہ خُواہی کُن

ز عشق دَرسِ عمل گِیر و ہَر چہ خُواہی کُن
کہ عِشق جوہرِ ہوش اَست و جان فَرہنگ اَست

عشق سے عمل کا سبق لے اور پھر جو چاہے کر
کیونکہ عشق سمجھ کا جوہر ہے اور عقل کی روح{ جان} ہے

بُلند تَر ز سپہر اَست منزِلِ مَن و تُو
براہِ قافلہ خورشید میلِ فَرسنگ اَست

ہماری{میری اور تمہاری} منزل آسمان سے بھی زیادہ بلند{آگے} ہے
سورج{ ہمارے} قافلے کی راہ میں کوس کے پہلے میل پر ہے { سورج تو ایک سنگِ میل ہے}

"پیامِ مشرق" علامہ محمد اقبال رح

آں حرفِ دِل فروز کہ راز ہَست و راز نیست


آں حرفِ دِل فروز کہ راز ہَست و راز نیست
مَن فاش گویَمَت کہ شُنید اَز کُجا شُنید

وہ دل چمکانے والا حرف جو راز ہے اور نہیں بھی
میں تمہیں کھول کر بتاتا ہوں کہ اسے کس سے سنا؟ اور کہا سے سنا؟

دُزدید ز آسماں و بہ گُل گُفت شَبنَمِش
بُلبُل ز گُل شُنید و ز بُلبُل صَبا شُنید

شبنم نے اس حرف کو آسمان سے چرایا اور پھول کو بتایا
بلبل نے پھول سے سنا اور بلبل سے صبا نے { پھر صبا نے اسے عام کردیا}
{نوٹ: "شبنم" علامہ رح کی شاعری میں فیضانِ سماوی کی مظہر ہے کیونکہ وہ اوپر سے آتی ہے۔ بوساطتِ شبنم آسمان سے آئی ہے}

"پیامِ مشرق" علامہ محمد اقبال رح

بُگذر اَز عقل و دَر آویز بَموجِ یَمِ عشق


بُگذر اَز عقل و دَر آویز بَموجِ یَمِ عشق
کہ دَر آں جوے تَنک مایہ گُہر پیدا نیست

عقل سے گزرجا اور عشق کے سمندر کی لہروں میں ہاتھ پاوں مار{عقل کی مدد سے محبوب حقیقی
کا دیدار نہیں کیا جاسکتا}
کیونکہ اس{ عقل} کی کم گہری ندی میں موتی نہیں پایا جاتا

آنچہ مقصودِ تگ و تاز خیالِ مَن و تُست
ہَست دَر دیدہ و مانندِ نظر پیدا نیست

{ وہ اللہ پاک کی ذات} جس کے لیئے میرے اور تیرے خیال کی یہ ساری بھاگ دوڑ لگی ہوئی ہے
وہ آنکھ میں ہے مگر نظر کی طرح دکھائی نہیں دیتا { انسان خدا کی ہستی کو دل میں محسوس کرتا
ہے لیکن آنکھوں سے نہیں دیکھ سکتا}

"پیامِ مشرق" علامہ محمد اقبال رح

عشق اَست کہ دَر جانِت ہر کیفیت اَنگیزَد


عشق اَست کہ دَر جانِت ہر کیفیت اَنگیزَد
اَز تاب و تبِ رومی تا حیرتِ فارابی

{یہ} عشق ہی ہے جو تیری روح میں ہر کیفیت پیدا کرتا ہے
رومی کے جوش و تڑپ سے لیکر فارابی کی حیرت تک
{ رومی مسلک عشق کے علمبردار ہیں اور عشق کا ثمرہ تب و تاب ہے،فارابی مذہب عقل کا
نماہندہ ہے اور عقل کا نتیجہ حیرت و استعجاب ہے}

اِیں حَرفِ نشاط آور می گویَم و می رَقصَم
اَز عشق دِل آسایَد با اِیں ہَمہ بیتابی

میں اس نشاط آور{ خوشی لانے والا} حرف کا ورد کرتا ہوں اور ناچتا ہوں
اس تمام بے تابی کے باوجود دل عشق ہی سے چین{سکون} پاتا ہے

ہَر معنیِ پیچیدہ دَر حَرف نَمی گَنجَد
یَک لحظہ بَدِل دَر شَو شاید کہ تُو دَریابی

حرف میں ہر پیچیدہ معانی نہیں سماتا
ایک پل کے لیئے اپنے دل کے اندر نظر ڈال شاید تو اسے پا جائے { اپنے من میں ڈوب کر پا جا
سراغِ زندگی}

"پیامِ مشرق" علامہ محمد اقبال رح

 
ترجمہ کردہ : محمد بلال اعظم