روزانہ کی بنیاد پر ای میل کا حصول

Showing posts with label زبور عجم. Show all posts
Showing posts with label زبور عجم. Show all posts

Wednesday, November 20, 2013

از کلیمے سبق آموز کہ داناے فَرَنگ

از کلیمے سبق آموز کہ داناے فَرَنگ
جگرِ بحر شگافید و بہ سینا نَرَسید

کسی کلیم { اللہ سے کلام کرنے والے،مراد اہل اللہ} سے وہ سبق سیکھ { جو تجھے معرفتِ
الہی سے آشنا کردے} کیونکہ یورپ کے دانشوروں اور سائنسدانوں نے سمندر کی گہرائیوں
کو جانچھ لیا لیکن وہ وادی سینا { جہاں موسی علیہ السلام نے خدا سے ہمکلامی کا شرف
حاصل کیا} تک نہیں پہنچ سکے
{اہل یورپ کائنات کے راز تو جانتے ہیں لیکن خالقِ کائنات کی معرفت سے بے بہرہ ہیں}

"زبورِ عجم " علامہ محمد اقبال رح


سنگ می باش و دَرین کارگہِ شیشہ گُزر

سنگ می باش و دَرین کارگہِ شیشہ گُزر
واے سنگِ کہ صنم گَشت و بہ مینا نَرَسید

پتھر بن کر اس شیشے کے کارخانے {دنیا} سے گزر جا
افسوس ہے اس پتھر پر جو بت تو بن گیا { نہ بول سکتا ہے اور نہ ہی سن سکتا ہے} لیکن
صراحی نہ بن سکا جس میں کم از کم شراب ڈال کر مے خواروں کی پلائی جاتی{ یعنی بے کار
شئے سے کارآمد چیز بہتر ہے}

کُہنہ را دَر شِکن و باز بہ تعمیرِ خرام
ہر کہ دَر ورطۂ ’’لا‘‘ ماند بہ ’’الا‘ نرسید

پرانی چیزوں کو توڑ کر از سرِ نو تعمیر کا عمل شروع کردے
جو کوئی بھی "لا" { لاالہ یعنی کوئی معبود نہیں} کے بھنور میں پھنس گیا وہ "الا" { الا اللہ
یعنی اللہ معبود ہے} کے ساحل تک نہ پہنچا

{ یعنی پہلے تمام باطل معبودوں کی نفی کرکے ایک خدا کی ربوبیت کو تسلیم کرنا ہی
مقصودِ فطرت ہے}

"زبور عجم" علامہ محمد اقبال رح

Tuesday, November 19, 2013

نَبینی خَیر اَز آں مردِ فرو دَست


نَبینی خَیر اَز آں مردِ فرو دَست
کہ بَر مَن تُہمتِ شعر و سُخن بَست

اس کمینے آدمی سے خیر کی امید مت رکھ،
کہ جس نے مجھ پر شعر وسخن{شوقِ فضول} کی تہمت لگائی{ میں نے تو شاعری کو
پیغامِ حقیقت پہنچانے کا ذریعہ بنایا ہے}

بکوے دِلبراں کارے نَدارَم
دلِ زارے غمِ یارے نَدارَم

میرا معشوقوں کی گلی سے کوئی کام نہیں
میں { ان عامیانہ شاعروں } کی طرح نحیف و نزار دل نہیں رکھتا،اور نہ ہی مجھے کسی
دوست کا غم ہے{ میری شاعری عشق و محبت کے روایاتی خیالات سے پاک ہے}

نہ خاکِ مَن غبارِ رہگُذارے
نہ دَر خاکَم دلِ بے اختیارے

{ عام شاعروں کی طرح} میری مٹی کسی کے راستہ کی غبار نہیں ہے{ میں کوچہ محبوب کے
چکر نہیں لگاتا}
اور نہ میری مٹی میں {غمِ محبوب} کے لیئے تڑپنے والا دل ہے

بہ جبریلِ اَمیں ھَم داستانَم
رَقیب و قاصِد و دَرباں ندانَم

میں تو خدا کے مقرب فرشتے جبریل امین کا ہم زبان ہوں{ پاکیزہ شاعری کرتا ہوں}
{اور عام شاعروں کی طرح} رقیب، قاصد، درباں جیسی اصطلاحات نہیں جانتا
{جو کہ عام عشقیہ شاعری میں ہوتی ہے

مَرا با فقرِ سامانِ کلیم اَست
فَرِ شاہِنشَہی زیرِ گَلیم است

{میری شاعری میں} فقرِ موسٰی کلیم اللہ علیہ السلام کی عظمت ساز و سامان کے ساتھ
موجود ہے
{ اس شاعری کو پڑھنے کے بعد} تجھے دنیا کی بادشاہی کی شان و شوکت اِس بوریا نشین
کے قدموں تلے نظر آئے گی { اور تجھے خدا سے ہمکلام ہونے کے راز بھی بتائے گی}

"زبوِ عجم" علامہ محمد اقبال رح

اگر زیرِ ز خود گِیری زَبَر شَو

اگر زیرِ ز خود گِیری زَبَر شَو
خُدا خواہی بَخود نزدیک تَر شَو

اگر تو کمزور اور بے زور ہے تو خود پر قابو پاکر{ اپنی معرفت حاصل کرکے} طاقتور بن جا
اور اگر تو خدا کا قرب چاہتا ہے تو پہلے اپنی پہچان کر{ خودی کی معرفت خدا کی معرفت ہے}

بہ تسخیرِ خود اَفتادی اگر طاق
تَرا آساں شُوَد تسخیرِ آفاق

اگر تو اپنی ذات کی تسخیر کرنے میں کامل ہوجائے
تو تیرے لیئے آفاق کی فتح بھی آسان ہوجائے گی

علامہ رح از " زبورِ عجم"

دین و دانش رَا غُلام اَرزاں دَہد


دین و دانش رَا غُلام اَرزاں دَہد
تا بدن رَا زندہ دارَد جاں دَہد

دین اور دانش کو غلام سستے داموں میں فروخت کرتے ہیں
اپنے بدن کو زندہ رکھنے کے لیئے اپنی جان بھی دے دیتا ہے

گرچہ بر لب ہائے اُو نامِ خداست
قبلۂِ اُو طاقتِ فرمانرواست

اگرچہ اس کے ہونٹوں پر خدا کا نام ہوتا ہے
لیکن اس کا اصل کعبہ تو اس کے آقاوں اور حکمرانوں کی طاقت ہوتا ہے{ وہ اپنے حکمرانوں
کے سامنے سجدہ ریز ہوتا ہے}

طاقتے نامِش دُروغ با فُروغ
اَز بطونِ او نزایَد جُز دُروغ

{فرمانرواں کی طاقت} ایک ایسی طاقت ہے جو روشن یا ترقی پذیر جھوٹ ہوتا ہے
اس کے بطن سے سوائے جھوٹ کے اور کچھ پیدا نہیں ہوتا

ایں صَنم تا سجدہ اِش کردی خُداست
چوں یَکے اندر قیام آئی فناست

{ تیرے حاکموں کے اقتدار کا یہ بت} اس وقت تک تیرا خدا ہے جب تک تو اسے سجدہ کرتا
رہے گا
اگر ایک دفعہ بھی اس کے مقابلے میں {ثابت قدمی} سے کھڑا ہوجائے تو یہ بت پاش پاش ہوجائے گا

آں خدا نانِ دَہد جانِ دَہد
ایں خدا جانِ بَرَد نانِ دَہد

ایک خدا تو وہ ہے جو ہمیں جو ہمیں رزق اور زندگی عطا کرتا ہے { یہ وہ خدا ہے جو وجودِ مطلق ہے}
اور یہ خدا {حاکموں کی طاقت کا خدا} روٹی کے بدلے زندگی لے جاتا ہے

" زبورِ عجم" علامہ محمد اقبال رح

فَرنگ آئینِ جمہوری نِہاد ست


فَرنگ آئینِ جمہوری نِہاد ست
رَسن اَز گردنِ دیوے گُشادست

یورپ نے جمہوری آئین کی بنیاد رکھ کر
گویا دیو کے گلے میں رسی کھول دی ہے
{مغربی طرزِ جمہوریت جہاں اکثریت کی رائے تسلیم کی جاتی ہے،خواہ وہ غلط ہی کیوں نہ ہو
جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اس سے ابلیسی افکار جڑ پکڑ رہے ہیں}

نَوا بے زخمہ و سازے ندارَد
ابے طیارہ پروازے ندارَد

{ان جمہوریت نواز} لوگوں کی نوا{ نغمہ} بغیر مضراب کے ہے اور اس ساز میں موسیقیت نہیں ہے۔
ان کی پرواز طیارے کے بغیر ہے {ان میں مادہ پرستی تو ہے لیکن روحانیت موجود نہیں}

ز باغِش کِشت ویرانے نکوتر
ز شہرِ او بیابانے نکوتر

اس { جمہوریت} کے باغ سے ویران کھیتی بہتر ہے
اور اس کے شہر سے بیابان اور ویرانہ اچھا ہے

چو رہزن کاروانے دَر تگ و تاز
شکمہا بِہر نانِ دَر تگ و تاز

چور کی طرح کاروان ہی دوڑ دھوپ میں مصروف ہے{ لوٹ مار کررہا ہے}
سب لوگ روح کو بھول کر شکم پرستی کی طرف ماہل ہیں

رواں خوابید و تَن بیدار گَردید
ہُنر با دین و دانش خوار گَردید

روح سوگئی ہے اور جسم جاگ رہے ہیں
اس { بے روح دنیا میں} ہنر،دین و دانش ذلیل و خوار ہوگئے ہیں

خرد جُز کافرے کافر گری نیست
فنِ افرنگ جُز مَردُم دری نیست

خرد{عقل} سوائے کافری کے اور دوسروں کو کافر بنانے کو سوا اور کچھ نہیں{ دنیا نے جمہوریت کی آڑ میں دین کو بھلا دیا ہے}
فرنگیوں کا فن سوائے آدمیوں کو پھاڑنے کے{ یعنی لوگوں کو ان کی تہذیب و ثقافت سے دور
کرنے کے} سوا کچھ نہیں

گروہے را گروہے دَر کَمین اَست
خدایش یار اگر کارِش چُنیں است

ایک گروہ کی گھات میں {حملہ آور ہونے کے لیئے} دوسرا گروہ مصروف ہے{ ہر طرف طبقاتی اور گروہی استحصال ہورہا ہے}
اگر ان کے کام ایسے ہی ہے تو بس ان کا خدا ہی حافظ ہے

ز مَن دِہ اہل مغرب را پیامے
کہ جمہور است تیغِ بے نیامے

میری طرف سے اہل مغرب کو یہ پیغام دو
کہ جمہوریت ایک ننگی تلوار ہے

چہ شمشیرے کہ جانہا می ستاند
تمیزِ مُسلم و کافر ندانَد

یہ {جمہوریت} کیسی تلوار ہے جو قتل کرتی ہے
اور اس میں کافر اور مسلمان کی کوئی تمیز نہیں

نَمانَد دَر غلافِ خود زمانے
بَرَد جانِ خود و جانِ جہانے

یہ ایک لمحہ کے لیئے بھی اپنی نیام میں نہیں رہتی
یہ اپنی جان اور جہان کی جان کی دشمن ہے{ جمہوریت کی تلوار چلانے والا خود بھی اس
تلوار سے محفوظ نہیں ہوتا}

"زبورِ عجم" علامہ محمد اقبال رح

مَرا ذوقِ خودی چوں اَنگبین اَست


مَرا ذوقِ خودی چوں اَنگبین اَست
چہ گویَم وارداتِ مَن ہَمین اَست

میرے لیئے خودی کا کیف و سرور شہد کی طرح لذیذ ہے
میں کیا کہوں کہ میری {وارداتِ قلب} ہی ایسی ہے

نَخستین کیف اُو را آزمُودَم
دگر بَر خاوَراں قسمت نَمُودَم

{اس خودی} کے کیف کو پہلے میں نے خود آزمایا
پھر اہل مشرق کو بتایا کہ وہ بھی خودی سے آشنا ہوکر اپنی تقدیر بدل لیں۔

" زبورِ عجم" علامہ محمد اقبال رح

بر سرِ کُفر و دیں فشاں رحمتِ عام خویش رَا


بر سرِ کُفر و دیں فشاں رحمتِ عام خویش رَا
بندِ نقاب بَر گُشا ماہِ تمام خویش رَا

اے خدا! اہل کفر اور اہل ایمان دونوں پر اپنی رحمت عام تچھاور کر
اپنے چودھویں کے چاند جیسے چہرے سے نقاب ہٹادے
{کیونکہ تیری رحمت تو ہر ایک کے لیئے ہیں،جب تیرے چہرے کی انوار و تجلیات مومن
دیکھے گا تو اس کا ایمان اور مضبوط ہوگا، اور جب اسے کافر دیکھیں گے تو یقینا تجھ پر
ایمان لائیں گے}

زمزمۂِ کُہن سراے، گردشِ بادہ تیز کُن
باز بہ بزمِ ما نگر ، آتشِ جام خویش را

{شاعر خدا سے التجا کرتا ہے} پرانا گیت پر سے گا اور شراب کی گردش کو تیز کردے
{کیونکہ موجودہ زمانے نے لوگوں کو عشقِ خدا سے بیگانہ کردیا ہے}
پھر ہماری محفل میں اپنے پیالے کی آگ {شراب} کا اثر دیکھ
{پرانے گیت اور شراب سے مراد اپنے اسلاف کی اقدار ہیں}

دامِ ز گیسواں بدوش زحمتِ گُلستاں بَری
صَیدِ چِرا نَمی کُنی طایرِ بامِ خویش را

تو اپنی زلفوں کے جال کندھوں پر پھیلا کر شکار کے لیئے باغ میں جانے کی تکلیف کررہا ہے
تو اپنے مکان کی چھت پر بیٹھے ہوئے پرندے کا شکار کیوں نہیں کرتا
{تیرے عاشق کب سے تیری نگاہِ ناز کا تیر کھانے کو تیار بیٹھے ہیں}

ریگِ عراق منتظر ، کِشتِ حجاز تشنہ کام
خونِ حُسین باز دِہ کوفہ و شامِ خویش را

عراق کی ریت انتظار کررہی ہے اور حجاز{مکہ مدینہ} کے کھیت پیاسے ہیں
کوفہ اور شام کو پھر سے خونِ حسین رضی اللہ عنہ کی ضرورت ہے { مراد حق کی آواز
بلند کرنے والی کی ضرورت ہے

"زبورِ عجم" علامہ محمد اقبال رح

چہ عجب اگر دو سلطاں بہ ولایتے نَگَنجَد

چہ عجب اگر دو سلطاں بہ ولایتے نَگَنجَد
عجب ایں کہ می نَگَنجَد بہ دوعالمے فقیرے

یہ بات عجیب نہیں کہ ایک مملکت میں دو بادشاہ نہیں سماسکتے
عجیب یہ ہے کہ ایک فقیر دونوں جہانوں میں نہیں سماسکتا {دراصل صاحبِ فقر کے لیئے
دونوں جہانوں کی وسعت بھی کم ہوتی ہے

"زبورِ عجم " علامہ محمد اقبال رح

شبِ تاریک و راہِ پیچ پیچ و بے یقیں راہی

شبِ تاریک و راہِ پیچ پیچ و بے یقیں راہی
دلیلِ کارواں را مشکل اندر مشکل افتاد اَست

اندھیری رات ہے اور راستہ پیچیدہ ہے اور اس راستہ پر چلنے والا{ دورِ حاضر کا مسلمان}
یقین کی دولت سے محروم ہے
امیرِ کارواں کے لیئے ایسے بے یقین مسافر کو پیچیدہ راستوں سے منزل مقصود تک لے جانا
بہت مشکل ہے

"زبورِ عجم" علامہ محمد اقبال رح

بِدِہ آں دل کہ مَستی ہاے اُو اَز بادۂِ خویش اَست

بِدِہ آں دل کہ مَستی ہاے اُو اَز بادۂِ خویش اَست
بِگیر آں دل کہ از خود رفتہ و بیگانہ اندیش اَست

اے خدا! مجھے ایسا دل عطا کردے کہ جس کی مستی {مدہوشی} اس کی اپنی ہی شراب سے
{ تیارکردہ} شراب سے ہو
مجھ سے وہ دل واپس لے لے جو مدہوش بے خبر اور اپنی بجائے غیروں کے بارے میں سوچتا ہو

بِدِہ آں دل بِدِہ آں دل کہ گیتی را فرا گیرَد
بِگیر ایں دل بِگیر ایں دل کہ دَر بندِ کم و بیش اَست

{مجھے} وہ دل عطا کردے وہ دل عطا کردے جو اس کائنات کو اپنی گرفت میں لے لے
{ اور مجھ سے} وہ دل واپس لے لے وہ دل واپس لے لے جو دنیاوی مفاد کے چکر میں
پھنسا ہوا ہے

"زبور عجم " علامہ محمد اقبال رح

الفاظ کے معنی

بدہ : عطا کر
بادہِ خویش : اپنی تیارکردہ شراب
خود رفتہ: مدہوش
گیتی: دنیا
بند: قید
کم و بیش: کم اور زیادہ، نفع نقصان

یقینِ مومنے دارَد گُمانِ کافرے دارَد

یقینِ مومنے دارَد گُمانِ کافرے دارَد
چہ تدبیر اے مسلماناں کہ کارَم با دِل اَفتاد اَست

{ دورِ جدید کی تہذیب، ثقافت اور علم و دانش کی وجہ سے} میرا دل کبھی مومن کی طرح
پختہ ایمان رکھتا ہے اور کبھی کافر کی طرح بے یقینی کا شکار ہوتا ہے { یعنی متلون مزاج ہے}

اے مسلمانوں {مجھے بتاو} میں کیا تدبیر کروں کہ بے یقینی کی حالت سے نکل کر تمہارے
جیسا بن جاوں، کیونکہ میرا واسطہ ایسے دل سے پڑا ہے جو بے یقینی کا شکار ہے

"زبورِ عجم" علامہ محمد اقبال رح

 
ترجمہ کردہ : محمد بلال اعظم