روزانہ کی بنیاد پر ای میل کا حصول

Tuesday, November 19, 2013

اگر زیرِ ز خود گِیری زَبَر شَو

اگر زیرِ ز خود گِیری زَبَر شَو
خُدا خواہی بَخود نزدیک تَر شَو

اگر تو کمزور اور بے زور ہے تو خود پر قابو پاکر{ اپنی معرفت حاصل کرکے} طاقتور بن جا
اور اگر تو خدا کا قرب چاہتا ہے تو پہلے اپنی پہچان کر{ خودی کی معرفت خدا کی معرفت ہے}

بہ تسخیرِ خود اَفتادی اگر طاق
تَرا آساں شُوَد تسخیرِ آفاق

اگر تو اپنی ذات کی تسخیر کرنے میں کامل ہوجائے
تو تیرے لیئے آفاق کی فتح بھی آسان ہوجائے گی

علامہ رح از " زبورِ عجم"

دین و دانش رَا غُلام اَرزاں دَہد


دین و دانش رَا غُلام اَرزاں دَہد
تا بدن رَا زندہ دارَد جاں دَہد

دین اور دانش کو غلام سستے داموں میں فروخت کرتے ہیں
اپنے بدن کو زندہ رکھنے کے لیئے اپنی جان بھی دے دیتا ہے

گرچہ بر لب ہائے اُو نامِ خداست
قبلۂِ اُو طاقتِ فرمانرواست

اگرچہ اس کے ہونٹوں پر خدا کا نام ہوتا ہے
لیکن اس کا اصل کعبہ تو اس کے آقاوں اور حکمرانوں کی طاقت ہوتا ہے{ وہ اپنے حکمرانوں
کے سامنے سجدہ ریز ہوتا ہے}

طاقتے نامِش دُروغ با فُروغ
اَز بطونِ او نزایَد جُز دُروغ

{فرمانرواں کی طاقت} ایک ایسی طاقت ہے جو روشن یا ترقی پذیر جھوٹ ہوتا ہے
اس کے بطن سے سوائے جھوٹ کے اور کچھ پیدا نہیں ہوتا

ایں صَنم تا سجدہ اِش کردی خُداست
چوں یَکے اندر قیام آئی فناست

{ تیرے حاکموں کے اقتدار کا یہ بت} اس وقت تک تیرا خدا ہے جب تک تو اسے سجدہ کرتا
رہے گا
اگر ایک دفعہ بھی اس کے مقابلے میں {ثابت قدمی} سے کھڑا ہوجائے تو یہ بت پاش پاش ہوجائے گا

آں خدا نانِ دَہد جانِ دَہد
ایں خدا جانِ بَرَد نانِ دَہد

ایک خدا تو وہ ہے جو ہمیں جو ہمیں رزق اور زندگی عطا کرتا ہے { یہ وہ خدا ہے جو وجودِ مطلق ہے}
اور یہ خدا {حاکموں کی طاقت کا خدا} روٹی کے بدلے زندگی لے جاتا ہے

" زبورِ عجم" علامہ محمد اقبال رح

حکمتِ اشیاء فرنگی زاد نیست


حکمتِ اشیاء فرنگی زاد نیست
اصلِ اُو جُز لذّتِ ایجاد نیست

اشیاء کی ماہیت جاننے کا آغاز فرنگیوں{یورپین} سے نہیں ہوا
اس کی بنیاد صرف نئی دریافت کی لذت ہے

نیک اگر بینی مسلماں زادہ اَست
ایں گُہر اَز دستِ ما افتادہ اَست

اگر تو غور سے دیکھے تو یہ{ علم و ہنر،دانش و حکمت} مسلمانوں کی پیدا کردہ ہے
یہ موتی ہمارے ہی ہاتھ سے گرا ہے

چوں عرب اندر اَرُوپا پَر گُشاد
علم و حکمت را بِنا دیگر نہاد

جب عربوں نے یورپ میں بھی اپنے جھنڈے گاڑ دیئے
تو انہوں نے وہاں نئے انداز سے علم و حکمت کی بنیاد رکھی

دانہ آں صحرا نشیناں کاشتَند
حاصلِش افرنگیاں برداشتَند

یہ بیج{ علم و حکمت}تو عرب صحرا نشینوں نے بویا تھا
لیکن اسکا حاصل اہل یورپ نے اٹھالیا { اکٹھا کیا}

علامہ رح " از پس چہ باید کرد"

فَرنگ آئینِ جمہوری نِہاد ست


فَرنگ آئینِ جمہوری نِہاد ست
رَسن اَز گردنِ دیوے گُشادست

یورپ نے جمہوری آئین کی بنیاد رکھ کر
گویا دیو کے گلے میں رسی کھول دی ہے
{مغربی طرزِ جمہوریت جہاں اکثریت کی رائے تسلیم کی جاتی ہے،خواہ وہ غلط ہی کیوں نہ ہو
جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اس سے ابلیسی افکار جڑ پکڑ رہے ہیں}

نَوا بے زخمہ و سازے ندارَد
ابے طیارہ پروازے ندارَد

{ان جمہوریت نواز} لوگوں کی نوا{ نغمہ} بغیر مضراب کے ہے اور اس ساز میں موسیقیت نہیں ہے۔
ان کی پرواز طیارے کے بغیر ہے {ان میں مادہ پرستی تو ہے لیکن روحانیت موجود نہیں}

ز باغِش کِشت ویرانے نکوتر
ز شہرِ او بیابانے نکوتر

اس { جمہوریت} کے باغ سے ویران کھیتی بہتر ہے
اور اس کے شہر سے بیابان اور ویرانہ اچھا ہے

چو رہزن کاروانے دَر تگ و تاز
شکمہا بِہر نانِ دَر تگ و تاز

چور کی طرح کاروان ہی دوڑ دھوپ میں مصروف ہے{ لوٹ مار کررہا ہے}
سب لوگ روح کو بھول کر شکم پرستی کی طرف ماہل ہیں

رواں خوابید و تَن بیدار گَردید
ہُنر با دین و دانش خوار گَردید

روح سوگئی ہے اور جسم جاگ رہے ہیں
اس { بے روح دنیا میں} ہنر،دین و دانش ذلیل و خوار ہوگئے ہیں

خرد جُز کافرے کافر گری نیست
فنِ افرنگ جُز مَردُم دری نیست

خرد{عقل} سوائے کافری کے اور دوسروں کو کافر بنانے کو سوا اور کچھ نہیں{ دنیا نے جمہوریت کی آڑ میں دین کو بھلا دیا ہے}
فرنگیوں کا فن سوائے آدمیوں کو پھاڑنے کے{ یعنی لوگوں کو ان کی تہذیب و ثقافت سے دور
کرنے کے} سوا کچھ نہیں

گروہے را گروہے دَر کَمین اَست
خدایش یار اگر کارِش چُنیں است

ایک گروہ کی گھات میں {حملہ آور ہونے کے لیئے} دوسرا گروہ مصروف ہے{ ہر طرف طبقاتی اور گروہی استحصال ہورہا ہے}
اگر ان کے کام ایسے ہی ہے تو بس ان کا خدا ہی حافظ ہے

ز مَن دِہ اہل مغرب را پیامے
کہ جمہور است تیغِ بے نیامے

میری طرف سے اہل مغرب کو یہ پیغام دو
کہ جمہوریت ایک ننگی تلوار ہے

چہ شمشیرے کہ جانہا می ستاند
تمیزِ مُسلم و کافر ندانَد

یہ {جمہوریت} کیسی تلوار ہے جو قتل کرتی ہے
اور اس میں کافر اور مسلمان کی کوئی تمیز نہیں

نَمانَد دَر غلافِ خود زمانے
بَرَد جانِ خود و جانِ جہانے

یہ ایک لمحہ کے لیئے بھی اپنی نیام میں نہیں رہتی
یہ اپنی جان اور جہان کی جان کی دشمن ہے{ جمہوریت کی تلوار چلانے والا خود بھی اس
تلوار سے محفوظ نہیں ہوتا}

"زبورِ عجم" علامہ محمد اقبال رح

ز شامِ ما بَروں آوَر سحر را


ز شامِ ما بَروں آوَر سحر را
بہ قرآن باز خواں اہل نظر را

{اے بیٹی} تو ہماری شام سے صبح کو باہر لا{ یعنی ہماری زبوں حالی کو عروج سے بدل دے}
اہل بصیرت {لوگوں} کو قرآن کی طرف بلا

تُو می دانی کہ سوزِ قرآتِ تُو
دگرگوں کَرد تقدیرِ عمر را

تو جانتی ہے کہ تیری قرآت کی سوز و گداز نے
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی تقدیر کو بدل ڈالی تھی

نوٹ: یہ شعر اس واقعہ کی طرف اشارہ کرتی ہے، جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے
اپنی بہن اور بہنوئی کی پٹائی کردی جب وہ اسلام لاچکے تھے اور قرآن پاک کی تعلیم
حاصل کررہے تھے، جب حضرت عمر نے وہ آیاتیں دیکھیں تو ان کا دل پسیج
گیا اور انہوں نے اسی وقت ایمان لایا

"ارمغانِ حجاز"{فارسی} علامہ محمد اقبال رح

ہَر زماں اَندر تلاشِ ساز و بَرگ


ہَر زماں اَندر تلاشِ ساز و بَرگ
کارِ اُو فکرِ مَعاش و تُرسِ مَرگ

{ایسی قوم} جو ہر لمحہ بس ساز وسامان{روپے پیسے} ہی کے چکر میں رہتی ہے
اس کا کام روزی کی فکر اور موت سے ڈرنا ہے

مُنعمانِ اُو بَخیل و عیش دوست
غافل اَز مغزاند و اندر بَندِ پوست

اس قسم کے دولت مند کنجوس لیکن عیاش ہوتے ہیں
وہ {رسوم} کے چھلکے میں گرفتار اور {حقیقت کے} مغز سے غافل ہوتے ہیں

قوتِ فرمانروا معبودِ اُو
دَر زیانِ دین و ایمان سُودِ اُو

حکمران کی قوت ان کی معبود ہے
وہ دین ایمان کے نقصان میں اپنا فائدہ دیکھتے ہیں

اَز حدِ امروز خود بیروں نَجِست
روزگارِش نقشِ یَک فردا نَبَست

وہ اپنے امروز{آج} کے حد سے باہر نہیں نکلتی
اس کی زندگی میں ایک کل کا نقش بھی ثبت نہیں ہوتا

اَز نیاگاں دفترے اَندر بغل
اَلامان اَز گفتہ ہائے بے عمل

وہ اپنے اسلاف { کے ناموں} کا دفتر بغل میں دبائے پھرتی ہیں
خدا کی پناہ، اس کی بے عمل باتوں سے{ اس کے پاس باتیں ہی باتیں ہیں عمل کوئی نہیں}

دینِ اُو عہد وفا بَستَن بہ غیر
یعنی از خِشتِ حَرَم تعمیرِ دَیر

اسکا دین غیروں سے پیمانِ وفا باندھنا ہے
وہ گویا حرم کو{ گرا کر اس} کی اینٹ سے بتکدے کی تعمیر کرتا ہے

آہ قومے دِل ز حَق پَرداختہ
مُرد و مَرگِ خویش را نَشُناختہ

افسوس ہے ایسی قوم پر جس نے حق سے دل ہٹالیا
جو مرچکی ہے مگر اپنی اس موت کو پہچانتی نہیں

"پس چہ باید کرد" علامہ محمد اقبال رح

مَرا داد ایں خرد پَروَر جنونِ


مَرا داد ایں خرد پَروَر جنونِ
نگاہِ مادرِ پاک اندرونِ

مجھے یہ خرد پرور{عقل کی پرورش } کرنے والا جنون دیا
ایک پاک باطن والی ماں کی نگاہ نے

ز مکتب چشم و دل نتواں گِرِفتَن
کہ مکتب نَیست جُز سحر و فسونِ

مکتب سے آنکھ اور دل نہیں لیئے جاتے{نہیں مل سکتے}
کیونکہ مکتب سحر و فسوں {شعبدہ بازی }کے سوا کچھ نہیں { درسگاوں میں روحانیت سے عاری
تعلیم دی جاتی ہے} یہاں درسگاوں سے مراد عصری تعلیمی ادارے ہیں

" ارمغانِ حجاز" علامہ محمد اقبال رح

 
ترجمہ کردہ : محمد بلال اعظم